غزل
یہ کیا غضب ہے کہ مجھ سے بھی پیار کرتے ہو
تامل کیوں ہے کہنے میں ‘ کہ اور وں پہ بھی مرتے ہو
اچانک جو ملا مجھ کو رقیب ِ روسیاہ اک دن
یہ بولا وہ قسم کھا کر ‘کہ دم اسی کا بھرتے ہو
یہ دعویٰ بھی کیا اس نے ‘ جدائی سہہ نہیں سکتے
کہ مچھلی ہو بنا جل کے ‘ بنا اسکے تڑپتے ہو
خدا کا خوف بھی جاتا رہا ہے‘ ا ب ترے دل سے
اسی کارن مرے غم میں ‘ پگھلتے ہو نہ گھلتےہو
نہ پرواہ ہے محبت کی ‘ نہ کوئی فکر ہے میری
جبھی تو تم کڑے دل سے ‘ستم ہر بار کرتے ہو
گھٹا کا کوئی سایہ تک‘ نہیں پوری فصائوں میں
بنا ان بادلوں کے آج ‘ پھر کیوں برستے ہو
نہ راہوں میں رکاوٹ ہے‘ نہ پیچ و خم نمایاں ہیں
وجہ ہے چال کی لغزش ‘ کہجس سے تم سنبھلتے ہو
کسی کےعشق نے جادو کیا ہے ‘ یا تمہیں پھر سے
پلائی ہے کسی ساقی نے مے ‘ جو یوں بہکتےہو
کرتا رہا ہوں انتظار ترا ‘ رات بھر سے میں
کہاں سے لوٹے ہو ‘ اور کس لیئے مہکتے ہو
محفل ہو اپنے یار کی ‘ یا بزم ِ غیر ہو
ہمیشہ تم اسی محنت سے ‘بنتے ہو سنورتے ہو
کسی اور پہ تو نوازشیں نہیں کرتے اتنی
مجھ سے ہی کیوںآخر ‘ ہر بات پہ الجھتے ہو
کیا توڑ ہی دو گے ‘مرے دل کے اس آبگینے کو
اس بے حسی سےآخر کیوں ‘ تم اس سے کھیلتے ہو
تمہیں چاہا ہے اوصاؔف نے ٹوٹ کر بہت دل سے
اسی کا زعم ہے شاید ‘اسی لیے اکڑتے ہو
اوصاف احمد
حرف ِ آخر : ساڑھے گیارہ بجے شب
مورخہ ۹ اکتوبر ۲۰۱۱