غزل
یونہی راہ چلتے چلتے ٗ مجھے آج مل گئے ہیں
کئی سال بعد دیکھا ٗ وہ بہت بدل گئے ہیں
سالوں کی یہ مسافت ٗ انہیں زیر کر چکی ہے
سانچے میں وقت کےو ہ ٗ اس طرح ڈھل گئے ہیں
یا تو اثر کیا ہے ٗ کئی حادثوں نے ان پر
یا گردش ِ زمانہ کے ٗ غم میں گھل گئے ہیں
نہ ان کی مسکراہٹ ٗ نہ وہ ناز نہ ہی نخرے
مانند اک شمع کے ٗ وہ تو پگھل گئے ہیں
اس راہ ِ زندگی میں ٗ مرے ساتھ ساتھ تھے وہ
میں کیا رکا جو پل بھر ٗ آگے نکل گئے ہیں
ڈھونڈا بہت تھا گرچہ ٗ انکو شہر میں ہم نے
وہ کوچہ وفا سے ٗ کب کے نکل گئے ہیں
شاید وہ مفلسی سے ٗ کچھ تنگ آ چکے تھے
دیکھا امیر زادہ ٗ تو وہ مچل گئے ہیں
کچھ دیر کا سحر تھا ٗ پھر وہ ہی رہ گزر تھی
ٹھوکر لگی تھی چونکہ ٗ خود ہی سنبھل گئے ہیں
ماضی کا وہ فسانہ ٗ رو کر سنا رہے تھے
شدت سے غم کی ان کے ٗ پھر ہونٹ سل گئے ہیں
دی میں نے جب تسلی ٗ روشن ہوئی جبیں کچھ
لگتا ہے ایسا مجھ کو ٗ شاید بہل گئے ہیں
اوصاف کی یہ قربت ٗ کچھ راس آگئی ہے
ملنے کا وعدہ کر کے ٗ مجھ سے وہ کل گئے ہیں
اوصاف احمد
حرف ِ آخر : 4 بجے سہ پہر
مورخہ11 دسمبر 2011